Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

گئے۔ پوچھا: وہ کیا سُوال ہے؟ عرض کیا: پوچھنا یہ تھا کہ قیامت کے دِن نجات کا دار ومدار کس بات پر ہے۔ حضرت ابوبکرصِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا:(عثمان! فِکْر کی بات نہیں ہے) یہ سُوال میں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے پُوچھ چُکا ہوں۔

روایت میں ہے: جب حضرت عثمان رَضِیَ اللہ عنہ نے یہ بات سُنی تو خُوشی سے کھڑے ہو گئے اور کہا: اے ابوبکر! میرے ماں باپ آپ پر قُربان ہوں، آپ ہی اس (مُعَاملے میں ہم سے آگے گزر جانے) کے حقدار ہیں۔اب حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے حدیثِ پاک بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے  پوچھا: مَا نَجَاۃُ ہٰذَا الْاَمْرِ یعنی قیامت کے دِن نجات کا دار و مدار کس بات پر ہے؟ فرمایا: ‌مَنْ ‌قَبِلَ ‌مِنِّي ‌الْكَلِمَةَ فَهِيَ لَهُ نَجَاةٌیعنی وہ کلمہ جس کی میں دعوت دیتا ہوں (یعنی کلمہ طیبہ)، جس نے (دِل سے) وہ کلمہ قبول کر لیا، اس کے لیے نجات ہے۔ ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے! ذرا سِی غلط فہمی ہوئی، لگا کہ عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ نے کسی وجہ سے سلام کا جواب نہیں دیا تو فورًا ابوبکر صِدّیق رَضِیَ اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اُن کے پاس پہنچ گئے، بات کر لی، اپنی سوچ اُن کے ساتھ شیئر(Share) کر لی، اُنہوں نے وضاحت دے دی، بات ختم ہو گئی۔ ہمیں بھی یہی والا اَنداز اِختیار کرنا چاہیے، کسی بات پر غلط فہمی ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر اس غلط فہمی کو دِل میں پال پال کر بدگمانی، بغض اور کینہ بنا لینا بہت بُری بات بلکہ گُنَاہ والا انداز ہے۔


 

 



[1]...مسند احمد، جلد:1، صفحہ:61، حدیث:21ملتقطاً۔