Book Name:Sulah ke Fazail
فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کو کھٹکی کہ کیا وجہ ہے؟ عثمان نے جواب کیوں نہیں دِیا (کیا کوئی ناراضی ہو گئی ہے، کیا مجھ سے کوئی شکوہ ہے، کوئی رَنجِش ہے؟ کیا ہو سکتا ہے؟)۔ فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ انتہائی ذہین اور عقلمند شخصیت تھے، آپ فورًا حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس پہنچے، انہیں ساری بات بتائی کہ میں یُوں عثمان کے قریب سے گزرا، سلام کیا، انہوں نے جواب ہی نہیں دیا، نہ جانے کیا رَنجِش ہو گئی ہے۔
حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ کی بھی کمال سوچ دیکھیے! آپ نے یہ نہ فرمایا کہ مَعْمُوْلی سِی بات ہے، خُود ہی سلجھا لو، میں خلیفہ ہوں، اُمُورِ خلافت انجام دینے ہیں وغیرہ وغیرہ، آپ نے ایسا کچھ نہ کیا بلکہ اس معاملے کو اہمیت دِی اور فورًا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کو ساتھ لے کر حضرت عثمان رَضِیَ اللہ عنہ کے پاس چلے گئے۔ دونوں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا۔ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: عثمان! کیا بات ہے، آپ نے اپنے بھائی کے سلام کا جواب نہیں دیا...؟ عرض کیا: میں نے جواب نہیں دیا... ؟ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ عنہ بولے: (میں ابھی تو آپ کے پاس سے گزرا تھا، آپ کو سلام کیا تھا)، خُدا کی قسم! آپ نے جواب نہیں دیا۔ کہا: آپ گزرے ہیں ، میں یہ بھی نہیں جانتا، آپ نے سلام کیا ہے ، مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔
حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ مُعَاملہ سمجھ چکے تھے، آپ نے فرمایا: عثمان! شاید آپ کسی سوچ میں گم تھے۔ عرض کیا: جی ہاں! میں ایک گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا، بات یہ ہے کہ میرا ایک سُوال ہے ، جو میں نے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے پوچھنا تھا، میں وہ سُوال پوچھ نہیں پایا اور آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دُنیا سے پردہ فرما