Book Name:Khuda Ko Razi Karne Wale Kam
نئی زندگی شروع ہو چکی ہے۔
اب چونکہ خوشیوں کے دِن ہیں،عید کے اَیّام چل رہے ہیں اور رَمضَانُ المُبَارَک کے بعد اب نئی زندگی شروع ہو رہی ہے تو آئیے! چند ایمان افروز حدیثیں سُنتے ہیں اور یہ پکی نیت کرتے ہیں کہ ان حدیثوں میں جن نیک اَعْمال کا ذِکْر ہوا ہے، ہم اُن نیک اَعْمال کو اپنی آیندہ زندگی میں مستقل طور پر نافِذ رکھیں گے۔
سُبْحٰنَ اللہ!! اب خوشیوں کے دِن ہیں، لوگ خوشی منانے کے نام پرنہ جانے کیا کیاکر رہے ہوتے ہیں، جھوٹے لطیفے سُنا کر قہقہے بلند کئے جا رہے ہوتے ہیں،دوست احباب جب مل کر بیٹھتے ہیں تو شور وغل مچاتے ہیں، اُودھم مچاتے ہیں، افسوس...!! خوشیاں منانے کے یہ بَھونڈے قسم کا اَنداز ہمارے مُعَاشرے میں بڑھتا جا رہا ہے۔
الحمدللہ!اسلام خوشیوں کا مُخالف نہیں ہے، اسلام خوشیوں کو پروموٹ کرتا ہے، کتنا اچھا ہو کہ خوشیوں کے ان مواقع پر اور پِھر اس کے بعد زندگی بھر کے لئے وہ اَعْمال بجا لائیں کہ جب بندہ وہ کام کرتا ہے تو اللہ پاک اسے دیکھ کر مُسکراتا (یعنی اس سے انتہائی خوش ہوتا ) ہے۔ ایک بڑی پیاری حدیث شریف سُناؤں...!! پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اِذَا ضَحِکَ رَبُّکَ اِلیٰ عَبْدٍ فِی الدُّنیا فَلَا حِسَابَ عَلَیْہ یعنی جب تمہارا رَبّ دنیا میں کسی بندے کو دیکھ کر مسکرائے تو روزِ قیامت اس سے حساب نہیں لیا جائے گا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! یعنی ابھی ہم جن نیک اعمال کے بارے میں سُننے والے ہیں، ان کی یہ 2 اَہَم