Book Name:Khuda Ko Razi Karne Wale Kam
غرض؛ عید کے دِن روزہ نہیں رکھ سکتے، اس کے بعد پُورے مہینے میں جب چاہیں شش عید کے روزے رکھ سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں نفل روزے رکھنے کی سَعَادت نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
پیارے اسلامی بھائیو! احادیثِ مُبَارکہ سے دوسری بات ہمیں یہ معلوم ہوئی کہ ماہِ رَمضَان نئی زندگی بخشنے والا مہینا ہے، یعنی جس نے ماہِ رَمضَان کے روزے رکھ لئے وہ گُنَاہوں سے پاک ہو گیا، اب وہ ایسے ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے۔ جو کبیرہ گُنَاہ ہیں جیسے *نماز نہ پڑھنا *روزہ نہ رکھنا*مسلمانوں کوناحق تکلیف پہنچانا وغیرہ، ان گُنَاہوں کی معافی تو توبہ سے ہی ہو سکتی ہے، البتہ پِھر بھی ماہِ رَمضَان بخششوں والا مہینا ہے، اس میں لاکھوں لاکھ اُن لوگوں کو بخش دیا جاتا ہے، جن پر جہنّم واجب ہو چکی ہوتی ہے تو ہم اللہ پاک کی رحمت پر اُمِّیدرکھ سکتے ہیں کہ ممکن ہے کہ ہماری بھی بخشش ہو چکی ہو۔ بہر حال!ماہِ رَمضَان کے بعد اب ایک نئی زندگی کاآغاز ہے۔ اب ہم نے اس کو واقعی ایک نئی زندگی بنانا ہے، یعنی ایک ہماری رَمضَانُ المُبَارَک سے پہلے والی زندگی ہے، ایک وہ زندگی ہے جو رَمضَانُ المُبَارَک کے بعد اب شروع ہوئی ہے، ہماری ان دونوں زندگیوں میں فرق ہونا چاہئے، مثلاً*پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے تو اب پانچوں نمازیں باجماعت پڑھنے کی عادَت بنانی ہے*پہلے سُنتوں پر عمل میں سُستی تھی، اب سُنتوں پر پابندی سے عمل شروع کر دینا ہے*پہلےاگر بُری عادات تھیں تو اب اچھی عادات اپنانی ہیں *پہلے عبادت میں سُستی تھی، اب عبادات میں چستی دِکھانی ہے۔غرض رَمضَانُ المُبَارَک کے بعد کی اور پہلے کی زندگی میں واضِح فرق لے کر آنا ہے کیونکہ اب ایک