Book Name:Khuda Ko Razi Karne Wale Kam
ایک بزرگ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں :پہلے کے لوگ رَمضَانُ المُبَارَک سے پہلے 6مہینے رَمَضان شریف کو پانے کی اور رَمضَانُ المُبَارَک کے بعد 6مہینے رَمضَان کی عبادت قبول ہونے کی دعا کیا کرتے تھے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! گویا اب یہ دُعائیں کرنے اور حسرت سے ہاتھ ملنے کے دِن شروع ہو چکے ہیں کہ آہ! ہم ماہِ رَمضَان کی صحیح معنوں میں قَدر نہیں کر پائے، اس پر حسرت کرنی ہے اور جو کچھ تھوڑی بہت نیکیاں کر پائے ہیں، ان کی قبولیت کی دُعا کرنی ہے۔
اللہ پاک ہمیں اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ ہونے اور اللہ پاک سے رحمت کی دُعائیں مانگتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
رَمضَانُ المُبَارَک کی ایک خصوصیت
پیارے اسلامی بھائیو! ماہِ رَمضَانُ المُبَارَک کی وہ خصوصیات جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک اَہَم اور بہت پیاری خصوصیت یہ بھی بیان ہوئی کہ ”رمضان وہ مہینا ہے جو آدمی کو نئی زندگی بخشتا ہے“۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ یعنی جس نے ایمان کے ساتھ، ثواب کمانے کیلئے رَمضَانُ المُبَارَک کے روزے رکھے، تو اُس کے پچھلے تمام گُنَاہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ ([2])ایک حدیثِ پاک میں ہے: جس نے رَمَضان کے روزے رکھے پھر 6دن شَوّال میں