Book Name:Khuda Ko Razi Karne Wale Kam
اِیثار کا معنیٰ ہے: دو سروں کی خواہِش اور حاجت کو اپنی خواہِش وحاجت پر ترجیح دینا۔([1])حدیثِ پاک میں ہے: جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اُ س خواہِش کو روک کر اپنے اوپر (کسی اور کو) تَرجیح دے، تو اللہ پاک اُسے بخش دیتا ہے۔([2])
حضر ت امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دن ایک وقت کے فاقے کے بعد ہمارے گھر کھانا بنا، میرے بابا جان مولیٰ علی اور میرے چھوٹے بھائی حضرتِ امام حُسین رَضِیَ اللہ عنہما کھانے سے فارغ ہو چکے تھے، مگر میری والدہ حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا نے ابھی کھانا نہیں کھایا تھا،وہ جونہی کھانا کھانے لگیں ، دروازے پر ایک سوالی آگیا اور کہنے لگا: اے رسول اللہ کی بیٹی!میں نے 2وقت سے کچھ نہیں کھایامجھے کھانا دیجئے۔حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا نے کھا نے سے ہاتھ روک لیا اور مجھے حکم دیا کہ جاؤ ! یہ کھانا سوالی کو دے دو، میں نے تو ایک وقت کا کھانا نہیں کھایا مگر وہ 2وقت سے بھوکا ہے۔([3])
کِھلانے پلانے کا عظیمُ الشّان ثواب
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سُنا کہ حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللہ عنہا نے فاقے کے باوُجُود اپنا کھانا اِیثار فرما دیا ! ہمیں ان مبارک ہستیوں کی زندگی سے سبق سیکھانا چاہئے، یقین مانئے! بھوکوں کوکھانا کھلانااور پیاسوں کوپانی پلانا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اِس ضِمن میں 2فرامینِ