Book Name:Khuda Ko Razi Karne Wale Kam
حضرت قَبِیْصَہ بن عُقْبَہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت سُفیان ثوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو ان کےاِنتقال کےبعدخواب میں دیکھ کرپوچھا:مَافَعلَ اللہ بِک؟ یعنی اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا مُعاملہ فرمایا؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے ربِّ کریم کا دیدار کیا تو اللہ پاک نے مجھ سےفرمایا:اےابن ِ سعید! تجھےمُبارک ہو،میں تجھ سےراضی ہوں ، کیونکہ جب رات ہوجاتی تھی تو تم آنسوؤں اور رقت ِ قلبی کے ساتھ میری عبادت کرتے تھے ، جَنّت تمہارے سامنےہے جومحل لیناچاہو لے لواورتم میری زیارت کرتےرہو،کیونکہ میں تم سے دُور نہیں ہوں ۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! وہ لوگ جو نماز میں صفیں سیدھی کرتے ہیں، ان کے بارے میں بھی ارشاد ہوا کہ اللہ پاک انہیں دیکھ کر مُسکراتا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ آج کل اس معاملے میں بھی بہت سُستی پائی جا رہی ہے، عموماً امام صاحِب جماعت کھڑی کرنے سے پہلے اعلان کرتے ہیں کہ اپنی ایڑیاں، گردنیں اور کندھے ایک سیدھ میں کر کے صفیں سیدھی کر لیجئے! اس کے باوُجُود بہت سارے لوگ امام صاحِب کے اعلان پر کان نہیں دھرتے، صفیں سیدھی نہیں کرتے۔
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے!نماز میں صفیں سیدھی نہ کرنا کوئی عام معاملہ نہیں ہے، اس کے جو نقصانات حدیثوں میں بیان ہوئے ہیں، بہت سخت ہیں۔*صفیں دُرست نہ کرنا