Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz

Book Name:Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz

ہو چکے ہوں گے جہاں میں جس قدر بھی اولیا

اُن   پہ،   ہر   اِکْ   اُن   کے   خدمت   گار   پر   لاکھوں    سلام([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

وسیلہ تلاش کیجیے!

اے عاشقانِ رسول! اس واقعہ سے پتہ چلاکہ *اولیائے کرام کے مزارات پر حاضر ہونا *ان کے قرب میں جا کر، ان کے وسیلے سے اللہ پاک کی بارگاہ میں دُعائیں کرنا، التجائیں کرنا *اپنی مصیبت، پریشانیاں حل کرنے کے لیے مزارات پر حاضر ہونا *اور اپنی مراد حاصل کرنا وغیرہ نیا  طریقہ نہیں اَلحمدُ لِلّٰہ! یہ قدیم مسلمانوں کا مَعْمُوْل ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ نیک لوگوں کے مزارات پر حاضِری بھی دیا کریں، ان کے وسیلے سے دُعائیں بھی مانگا کریں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! اللہ پاک کی رحمت ضرور نصیب ہو جائے گی۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (پارہ:6، سورۂ مائدہ:35)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اُس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔

مشہور مفسر قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ   اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: اس سے مَعْلُوم ہوا؛  زِندہ بزرگوں سے ملاقات کے لیے سَفَر کرنا، وفات یافتہ بزرگوں کے مزارات پر سَفَر کر کے حاضِری دینا، وہاں جا کر اُن کے وسیلہ سے اللہ پاک سے دُعا کرنا، یہ سب بہت ہی بہتر ہے۔ اِن سب سَفَروں کا مآخذ (یعنی دلیل) یہی آیت ہے کہ یہ


 

 



[1]...وسائلِ بخشش، صفحہ:602۔