Book Name:Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz
کرے، پھر نماز کے لیے کھڑا ہو،اِس کے رُکوع، سُجُود اور قراء َت (قِرا۔ءَ۔ت) کو مکمَّل کرے تو نماز کہتی ہے: اللہ پاک تیری حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی۔ پھر اُس نماز کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اُس کے لیے چمک اور نور ہوتا ہے، پس اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، یہاں تک کہ اُسے اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے اور وہ نماز اُس نمازی کی شفاعت کرتی ہے۔([1])
ہوں میری ٹوٹی پھوٹی نمازیں خُدا قبول
اُن دو کا صدقہ جن کو کہا شہ نے میرے پھول
وضاحت: یعنی امام حَسَن و حُسَین رَضِیَ اللہ عنہما جنہیں سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے رَیْحَانَتَیْ یعنی میرے پھول فرمایا، اے اللہ پاک! اُن کے صدقے میری ٹوٹی پُھوٹی نمازیں قبول فرما لے۔
اللہ پاک ہمیں سمجھ نصیب کرے۔ نماز پڑھیے! ضرور پڑھیے! وقت نکال کر پڑھیے! پُورے اہتمام کے ساتھ پڑھیے! رَبّ کی محبّت دِل میں سجا کر، اللہ پاک دیکھ رہا ہے ، یہ تَصَوُّر باندھ کر پڑھیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! دُنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔
نارِ دوزخ سے بے شک بچائے گی یہ رب سے دلوائے گی تم کو جنت نَماز
بھائیو! گر خُدا کی رِضا چاہیے آپ پڑھتے رہیں باجماعت نَماز
آؤ مسجد میں جُھک جاؤ رب کے حُضُور تم کو دلوائے گی حق سے رِفْعَت نَماز([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد