Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz

Book Name:Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz

سُورۂ نسآء، آیت: 103 میں اِرْشاد ہوا۔ اس کے بعد اللہ پاک نے فرمایا:

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(۱۰۳)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔

اللہ اکبر! دوجہاں کے تاجدار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  اور سب اُمّتوں میں افضل تَرِین اُمّت کے افضل تَرِین لوگ یعنی صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم ، انہیں عین حالتِ لڑائی میں بھی نماز دَیْر کر کے پڑھنے کی اجازت نہ ہوئی، جنگ کے میدان میں بھی نماز پڑھنے بلکہ جماعت قائِم کرنے کا حکم دیا گیا اور ہم ہیں...!! مَعَاذَ اللہ! خوامخواہ بھی نمازیں قضا کر ڈالتے ہیں۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔

گُھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا                          بے عمل!بے انتِہا گھبرائے گا

کام مال و زر نہیں کچھ آئے گا            غافل انساں یاد رکھ پچھتائے گا

سانپ بچّھو قبر میں گر آگئے!                                                                کیا کرے گا بے عمل گر چھا گئے!

آدابِ نماز کا خیال فرمائیے!

خیر! میں عرض کر رہا تھا، اَوَّل تو نماز پڑھنے والے بہت کم ہیں، پِھر جو پڑھتے ہیں، ان میں بھی ایک تعداد ایسی ہے جو نماز کے آداب کا لحاظ نہیں رکھتے *بےتَوَجّہی سے نماز پڑھنا *اِدھر اُدھر دیکھتے رہنا *بار بار کھجانا *کبھی بالوں، کپڑوں اور داڑھی وغیرہ کے ساتھ کھیلنا وغیرہ پتا نہیں کیسی کیسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ یقیناً یہ انداز بارگاہِ اِلٰہی کے آداب کے خِلاف ہیں، جب بندہ اپنے مالِک کے حُضُور کھڑا ہے، تب چاہیے کہ مکمل پُرسکون رہے، دِل کی کیفیات سے لے کر ظاہِر اعضا تک پُورے کا پُورا انسان عاجزی کا پیکر،