Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz

Book Name:Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz

داخِل ہو گا۔([1])*روایت ہے:اللہ پاک نے اپنے نبی حضرت داؤد  علیہ السَّلام   کی طرف وحی فرمائی:اے داؤد!بنی اسرائیل سے کہو!جس نے ایک نَماز بھی چھوڑ دی، روزِ قیامت میں اس پر غضب فرماؤں گا۔([2])

پڑھتے رہو نماز تو جنّت میں جاؤ گے       چھوڑو گے گر نماز جہنّم میں جاؤ گے

نماز کسی صُورت معاف نہیں

ویسے ہم بھی  بڑے عجیب لوگ ہیں *عِید آجائے تو نمازوں میں سُستی کر ڈالتے ہیں *گھر میں چھوٹا موٹا فنکشن ہو تو نمازیں قضا ہو جاتی ہیں *اب تَو مَعَاذَ اللہ! حالت ایسی ہے کہ گھر میں فَوتگی ہو جائے تو لوگ نمازیں قضا کر ڈالتے ہیں *میت کو نہلانے میں مصروف تھا *تو کفن لانے، بنانے میں مصروف تھا *قبر بنوانی تھی *جنازے میں دَیْر ہو رہی تھی، اس لیے نماز نہیں پڑھی، جماعت چُھوٹ گئی بلکہ دُور و نزدیک سے جو مہمان آئے ہوتے ہیں، وہ دَرْیَوں، چٹائیوں  پر فارِغ بیٹھے بیٹھے بھی نماز کا وقت گزار ڈالتے ہیں۔ حالانکہ فوتگی پر آئے ہیں، جنازہ پڑھا ہے، ابھی ابھی اپنے ہاتھوں سے میّت کو قبر میں اُتارا ہے، اس کے باوُجُود دِل کے پردے نہیں ہٹے۔ یقین مانیے! کیسی بےحِسّی کی بات ہے۔

پانچویں پارے میں، سُورۂ نِسَآء کی آیت: 102 میں نمازِ خَوْف کا طریقہ بیان ہوا ہے، ایک مرتبہ پیارے آقا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  غزوَے میں تھے، جب کہ کفّار کے ساتھ لڑائی تھی، اس دوران نمازِ عصر کا وقت آیا، اب نماز کیسے پڑھنی ہے؟ یعنی عین حالتِ جنگ میں غیر مسلموں کا لشکر سامنے موجود ہے، لڑائی کے دوران نماز کیسے پڑھیں گے؟ اس کا طریقہ


 

 



[1]...حلیۃ الاولیاء،جلد:7 ،صفحہ:299 ،حدیث:10590۔

[2]...الزہر الفائح ،آفات الغفلۃ،  صفحہ:27۔