Book Name:Imam Bukhari Ka Zauq e Namaz
کر حدیثِ پاک لکھی۔
جِے دُھْوَاں مُنْہ عِطْرْ گُلَابُوْں دَمْ دَمْ وَارْ ہَزَارَاں
ہُوْوَاں نَاہْ اَجِے نَامْ لِیْوَنْ دِےْ لَائِق شَاہِ اَبْرَارَاں
وضاحت: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اگر میں اپنے منہ کو ہزار بار مشک اور گُلاب سے دھو بھی لو، تب بھی آپ کا نامِ پاک لینے کے قابِل نہیں ہو پاؤں گا۔
نیکیوں کو کاموں کا حِصَّہ بنائیے!
پیارے اسلامی بھائیو! امام بُخاری رحمۃُ اللہ علیہ کے اس پیارے انداز میں عشق رسول کی جو جھلک ہے، وہ تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ نیکیوں کو بالخصوص نمازوں کو اپنے کاموں کا حِصَّہ بنانا چاہیے۔ دیکھیے! ہم گھر سے آفس یا دُکان پر جاتے ہیں، اس میں ہم کتنے کام کرتے ہیں؛ *گاڑی کی چابی اُٹھانا *گاڑی نکالنا *صاف صفائی کرنا *تیل چیک کرنا *دُکان پر پہنچنا *تالا کھولنا *سامان دیکھنا *بکھری چیزیں سمیٹنا.... وغیرہ وغیرہ۔ یُوں غور کرتے چلے جائیے! ہمارے ایک ایک کام کے اندر کئی کئی کام ہوتے ہیں اور ہم لگے ہاتھوں یہ سارے ہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم کچھ نیکیاں بھی ان کاموں کا حِصَّہ بنا دیں تو جیسے یہ کام ہوتے جاتے ہیں، یونہی نیکیاں بھی ہوتی چلی جائیں گی۔ مثلاً *پکّی نِیّت کر لیجیے! کہ دُکان پر پہنچتے ہی سب سے پہلے 2نفل پڑھا کروں گا۔ اب دُکان کھولنے کے لیے جس طرح تالا کھولنا ایک کام ہے، یونہی 2نفل بھی ایک کام ہو گیا۔ بس اسے لازِم پکڑ لیجیے! *ہر بار گلَّہ کھولنے سے پہلے ایک بار درودِ پاک پڑھا کروں گا *ہر بار گاڑی پر بیٹھتے ہی بِسْمِ اللہ پڑھا کروں گا، 5 بار درودِ پاک پڑھا کروں گا *ہر بار گھر