Book Name:Waqt Bandha Farz
آنکھوں میں آنسو آگئے۔ حافِظِ ملّت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے عرض کیا: کیا حضور کو کہیں درد ہے؟ کہیں تکلیف ہو رہی ہے؟ فرمایا: (بہت بڑی تکلیف ہے کہ) ظہر کی نماز قضا ہو گئی۔ عرض کیا: آپ بےہوش تھے اور بےہوشی میں قضا ہوئی نماز پر پکڑ نہیں ہے۔ (ظاہِر ہے بےہوش بندہ نماز پڑھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا تو قضا ہونا اس کے اختیار میں نہیں ہے، لہٰذا پکڑ بھی نہیں ہے) مگر نیک لوگوں کی نِرالی ہی شانیں ہیں،آپ نے تڑپ کرفرمایا:آپ پکڑ ہونے (یا نہ ہونے ) کی بات کرتے ہیں، وقتِ مقرّرہ پردربارِ اِلٰہی میں حاضِری سے تو محروم رہا۔([1])
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت ہو توفیق ایسی عطا یااِلٰہی!
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر ہوں سارے نوافل ادا یااِلٰہی!([2])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ نمازوں سے محبّت کریں، ہماری مجبوریاں اپنی جگہ البتہ شریعت نے نماز کا جووقت مُقَرَّر کر دیا ہے، اس کی بھی اپنی اہمیت و فضیلت ہے، بارگاہِ اِلٰہی میں حاضِری کے مقرر وقت ہی میں ہماری حاضِری ہو جائے، ہم ایک وقت کی حاضِری سے بھی محروم نہ رہیں، اس کی بھرپُور کوشش جاری رکھنی چاہیے ۔
علمائے کرام فرماتے ہیں: جس طرح کھانے کا ایک وقت ہوتا ہے، اگر بےوقت کھانا کھایا جائے تو بدن کو طاقت دینے کی بجائے اُلٹا بیمار کر دیتا ہے، اسی طرح دِل (کی خوراک یعنی اس) پر معرفت کے دروازے کھلنے کا بھی ایک خاص وقت ہوتا ہے اور 5نمازیں جو فرض