Waqt Bandha Farz

Book Name:Waqt Bandha Farz

پُورا طریقہ بتایا کہ جب ایسا مُعَاملہ آجائے، اس وقت 2گروہوں میں بٹ جاؤ! ایک گروہ جماعت میں شامِل ہو، امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے، دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے پر رہے، پِھر پہلا گروہ دُشمن کے مقابلے پر آئے اور دوسرا امام کے ساتھ جماعت میں شامِل ہو،([1]) یہ ایک پُورا طریقہ ہے جو قرآنِ کریم میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا، یہاں سے آپ اندازہ لگائیے کہ نماز کو اس کے وقت کے اندر ہی پڑھنا کتنا ضروری ہے۔ حالتِ جنگ میں بھی ظہر اور عصر یا مغرب اور عشا مِلا کر پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پتا چلا؛ چاہے کیسی ہی مَجْبُوری ہو*سَر میں دَرْد ہو یا بُخار چڑھ جائے*ڈاکٹر سے ملنا ہو یا ضروری شاپنگ کرنی ہو*عِیْد ہو یا تہوار ہوں*شادِی ہو یا جنازے میں شرکت *افطار پارٹی ہو یا سالگرہ کا فنکشن*بَس چھوٹتی ہو یا سَفَر روکنا پڑ رہا ہو، ہر صُورت میں نماز کو اس کے وقت ہی میں پڑھنا لازمی ہے، دُنیا کا ہر کام رُک سکتا ہے مگر جب تک شریعت اجازت نہ دے، تب تک نماز کو اس کے وقت سے ہٹانا ہر گز ہرگز جائِز نہیں ہے۔

نمازِ مغرب میں تاخیر کی تو...!

ایک مرتبہ پِیر مہر علی شاہ صاحِب  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  سَفَر پر تھے، کچھ دوست وغیرہ بھی ساتھ تھے، کار میں سَفَر ہو رہا تھا، دورانِ سَفَر نمازِ مغرب کا وقت ہو گیا، پِیر صاحِب نے فرمایا: گاڑی روک کر نمازِ مغرب ادا کر لی جائے۔ ایک صاحِب بولے: بس گھر آنے ہی والا ہے، ہم اپنی منزل پر پہنچ کر پڑھ لیں گے۔

(حالتِ سَفَر میں چونکہ جماعت واجِب نہیں ہوتی ([2])اور وقت کے اندر اندر ہی منزل پر پہنچ بھی


 

 



[1]...تفسیر قرطبی، پارہ:5، سورۂ نساء، زیرِ آیت:102، جلد:3، جز:5، صفحہ:214 و 215۔

[2]... درمختار،کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،صفحہ:76ماخوذاً۔۔