Waqt Bandha Farz

Book Name:Waqt Bandha Farz

وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ(۱۸) (پارہ:21، سورۂ روم:17و18)

تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور اس وقت جب دِن کا کچھ حصّہ باقی ہو اور جب تم دوپہر کرو!

پِھر حضرت عبد اللہ بن عبّاس  رَضِیَ اللہ عنہما  نے فرمایا: (اس آیت میں تسبیح سے مراد نماز ہے اور) *شام کی تسبیح سے مراد نمازِ مغرب اور عشا ہے *صبح کی تسبیح سے مراد نمازِ فجر ہے *جب دِن کا کچھ حصّہ باقی ہو، اس وقت کی تسبیح سے مراد نمازِ عصر ہے اور *دوپہر کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ ([1])

حالتِ جنگ میں بھی نماز کی اہمیت

پتا چلا؛ نمازوں کے اَوْقات مُقرَّر ہیں اور ہر نماز کو اس کے مُقَرَّر وقت ہی میں پڑھنا لازم اور ضروری ہے۔ ایک بھی نماز کا وقت گزار دینا یعنی نماز قضا کر دینا بہت سخت گناہ ہے۔([2])بندے کو کیسی ہی مَجْبوری ہو، جب تک شریعت اجازت نہ دے، نماز کو اس کے وقت سے ہٹانا، مثلاً؛ یہ سوچنا کہ ابھی مَصْرُوف ہوں، ظہر کی نماز عصر کے وقت پڑھ لوں گا، مغرب کی نماز عشا کے وقت پڑھ لوں گا، یہ انداز ہر گز ہرگز جائِز نہیں ہے۔

 ایک مرتبہ جنگ کا موقع تھا، غیر مسلموں نے آپس میں سازِش رچائی کہ عصر کا وقت ہونے والا ہے، مسلمانوں کو نماز بہت پیاری ہے، جب یہ نماز پڑھیں گے، اس وقت ہم اُن پر حملہ کریں گے۔ یہ انہوں نے سازش کی، ادھر اللہ پاک نے حضرت جبریل امین  علیہ السَّلام  کو بھیج دیا، پانچویں سپارے کی آیات نازِل ہوئیں، اس میں اللہ پاک نے نمازِ خوف کا


 

 



[1]... تفسیر طبری ، پارہ: 21، سورۂ روم، زیر آیت: 17-18، جلد: 10، صفحہ: 174 ، رقم:27923۔

[2]... بہارِ شریعت، جلد:1، صفحہ:700، حصّہ:4 خلاصۃً ۔