Book Name:Waqt Bandha Farz
میں عید الفطر کے بعد 6 روزے رکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔آئیے ان روزوں کے فضائل سنتے ہیں تاکہ ہمارا یہ روزے رکھنے اور ان کی برکتوں سے فیض یاب ہونے کا ذہن بنے، چنانچہ*حدیثِ پاک میں ہے: جس نے رَمَضان کے روزے رکھے پھر 6دن شَوّال میں روزے رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔([1])*جس نے رَمَضان کے روزے رکھے پھران کے بعدشَوّال میں 6روزے رکھے۔ توایسا ہے جیسے عمر بھر کے روزے رکھے۔([2])*خَلیلِ مِلَّت مفتی محمد خلیل خان برکاتی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:یہ روزے عید کے بعد مسلسل رکھے جائیں تب بھی حَرَج نہیں اور بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتے میں 2روزےاور عید کے دوسرے دن ایک روزہ رکھ لے اور پورے ماہ میں رکھے تو اور بھی مناسب معلوم ہوتاہے۔([3])
بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک شرعِی مسئلہ عرض کرتا ہوں:
(درست شرعی مسئلہ اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی)
مسئلہ: پیشہ ور بھکاریوں کو فطرانہ اور زکوٰۃ دینے سے ادائیگی نہ ہوگی۔
وضاحت: رمضان کریم کے آخری لمحات ہیں، بعض حضرات رمضان کریم میں ہی فطرانہ ادا کر دیتے ہیں اور بعض عید والے دن عید کی نماز سے پہلے ادا کرتے ہیں، یاد رکھیے! فطرانہ اور زکوٰۃ اس شخص کو دے سکتے ہیں جو سید یا ہاشمی نہیں ہے اور شرعی فقیر