Book Name:Waqt Bandha Farz
اعتماد ہرگز نہ کیا جائے کیونکہ اکثر تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ انسانوں کی آہٹ اور چہل پہل سُن کر صبح صادق سے پہلے بھی مُرغے بانگ دینا شروع کر دیتے ہیں۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! عیدُ الفطر آ رہی ہے، صدقۂ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کا نصاب حاجتِ اَصْلِیہ سے فارِغ ہو واجب ہے۔ ([2]) اللہ پاک فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) (پارہ:30، الاعلیٰ:14)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک جس نے خود کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہوگا۔
تفسیر قرطبی میں ہے: اِس آیت میں تَزَكّٰى سے مُراد صدقۂ فِطر دینا ہے۔([3]) یعنی جو بندہ عِیْدُ الْفطر کے موقع پر صدقۂ فِطْر دے کر غریبوں کو عِیْد کی خوشیاں منانے کا موقع فراہَم کرتا ہے ، اس کا دِل ستھرا ہو جاتا ہے اور وہ فلاح و کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
فطرے کی ادائیگی کے 4طریقے
صدقۂ فِطْر کی مقدار کے4 اعتبار ہیں : (1):کِشمِش (2):کھجور (3):جَو شریف یا اُس کا آٹا (4):گندم یا اُس کا آٹا *کِشْمِشْ کے اعتبار سے صدقۂ فِطْر ادا کرنا ہو تو اس کی اس سال(2026ء میں) پاکستان میں مقدار 72 سو روپے فی کَس ہے *کھجور کے اعتبار سے 26 سوروپے *عَجْوہ کھجور کے اعتبار سے19ہزار 2 سو روپے *جَو شریف کے اعتبارسے