Waqt Bandha Farz

Book Name:Waqt Bandha Farz

بھی سہولیات اس وقت نہیں تھیں۔چنانچہ آپ نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کیا: اے اللہ پاک! ایسی صُورت ہو کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو مجھے کسی طرح خبر ہو جائے تاکہ میں سب کام چھوڑ کر نماز میں مَصْرُوف ہو سکوں۔ اس وقت اللہ پاک نے مرغ عطا فرمایا۔جب نماز کا وقت ہو جاتا تو مُرغ بانگ دے دیا کرتا تھا۔([1])

سُبْحٰنَ اللہ! گویا دُنیا کا سب سے پہلا اَلارم مُرغ ہے اور یہ اس لیے آیا تاکہ حضرت آدم  علیہ السَّلام  کو نمازوں کے اوقات سے خبردار رکھ سکے۔

مُرغے نے جب بانگ دی

حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں :پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ایک مُرغے نے بانگ دی تو ایک شخص نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر۔آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اِسے لعنت نہ کرو اور بُرانہ کہو، بے شک یہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ ([2])

حضرت علامہ کمالُ الدین دَمیری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں :مُرغانماز کے لیے بلاتا ہے۔ اس کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ جب جب وہ بانگ دیا کرے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے بلکہ مُرغے کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ طلوعِ فجر کے وقت بار بار آواز (یعنی بانگ) دیتا ہے جس کی وجہ سے لوگ نماز کے لیے  اُٹھ جاتے ہیں،اور یوں مُرغا نماز کے لیے  لوگوں کے جاگنے کا ایک ذریعہ ہے، اس کو مُرادی طور پر دُعَاءُ الدِّیْکِ اِلَی الصَّلٰوۃِ ( یعنی مُرغا نماز کے لیے  بُلاتا ہے) کہا گیاہے۔ بہرحال وقت ِ فجر کے تَعَلُّق سے اس کی اذان یعنی بانگ کا


 

 



[1]... تاریخ الخمیس، المقدمۃ، جلد:1، صفحہ:102و103 مفصلاً۔

[2]... معجم کبیر، جلد:5، صفحہ:11، حدیث:9675۔