Book Name:Shaitan Ke Darwaze
بہت عقل مندتھا، اس نے شیطان سے کہا: اے ابلیس! یہ بتا کہ میں تیرے جیسا کیسے بن سکتا ہوں؟ شیطان بولا: تیرا بُرا ہو! یہ کیسا سُوال ہے؟ مجھ سے کبھی کسی نے یہ بات نہیں پوچھی (سب مجھ سے بچنے کے طریقے ہی سوچتے ہیں اور تُو ہے کہ میرے جیسا بننا چاہتا ہے)؟نیک آدمی نے کہا: بس مجھے یہ پسند ہے، تم سوال کا جواب دو...!! (اب شیطان کے دِل میں تو شاید لڈو پُھوٹے ہوں گے، بڑا خوش ہوا ہو گا کہ چلو میرے جیسا کوئی مِل گیا، چنانچہ) شیطان نے اپنے راز سے پردہ اُٹھاتے ہوئے کہا: میرے جیسا بننا بہت آسان ہے، بس 2 کام کر لو! (1):نمازوں میں سُستی کیا کرو! (2):جھوٹی ہوں یا سچّی زیادہ سے زیادہ قسمیں کھایا کرو! تم میرے جیسے بن جاؤ گے۔ یہ سُن کر اس نیک آدمی نے کہا: میں اللہ پاک سے وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ یہ دونوں کام ہی نہیں کیا کروں گا۔ شیطان بولا: مجھے کبھی کسی نے ایسے دھوکا نہیں دیا، میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ کبھی آدمی کو نصیحت نہیں کروں گا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! غور کا مقام ہے...!! 2 کام ہیں جو انسان کوشیطان بنا دیتے ہیں۔ (1):نمازوں میں سُستی کرنا (2):زیادہ قسمیں کھانا۔افسوس! یہ دونوں کام ہمارے معاشرے میں بڑھتے چلے جا رہےہیں۔ ابھی الحمد للہ! رَمْضَانُ الْمُبارَک کے برکتوں والے دِن ہیں، مسجدوں میں جیسی ہونی چاہئے، ویسی نہ سہی بہر حال رَونق تو ہے، نمازیوں کی تَعداد بڑھی ہوئی تو ہے مگر افسوس! جیسے ہی ماہِ رَمضَان رُخصت ہو گا، نمازوں میں سُستی پِھر بڑھ جائے گی۔ مسجدیں وِیران ہو جائیں گی، گنتی کے چند نمازی ہی باقی رہ جائیں گے۔
اے عاشقانِ رسول! ہم نے شیطان سے دُشمنی کرنی ہے، اسے ہر وقت دُشمن ہی جاننا ہے، اس لئے آج یہ پکّا ارادہ کیجئے کہ ہم نماز میں ہر گز سُستی نہیں کریں گے، چاند رات کی