Surah e Mulk Fazail o Mazameen

Book Name:Surah e Mulk Fazail o Mazameen

پتا چلا؛ ہم مجبور محض نہیں ہیں بلکہ ہمیں اپنے موجُودَہ لمحے پر اِخْتیار دیا گیا ہے، ہم اپنے موجُودَہ لمحے میں نیکی کرتے ہیں یا گُنَاہ کرتے ہیں؟ نماز پڑھتے ہیں یا مَعَاذَ اللہ! شراب پینے کو اِخْتیار کرتے ہیں * تلاوت کرتے ہیں یا غیبت و چغلی کا انتخاب کرتے ہیں * سچ بولتے ہیں یا جھوٹ کا انتخاب کرتے ہیں * دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں یا خیر خواہی کا انتخاب کرتے ہیں؟ یہ ہمیں اِخْتیار دے دیا گیا اور اسی میں آزمائش ہے، ہم جس طرح کے عمل کا انتخاب کریں گے، ویسا ہی نتیجہ پا لیں گے، گُنَاہ کی راہ اپنائیں گے تو سزا کے حقدار ہوں گے، نیکی کا رستہ اپنائیں گے تو جزاء کے حقدار بن جائیں گے۔

ہر جان گِرْوِی رکھی ہے

پیارے اسلامی بھائیو!  پارہ:29،  سورۂ مُدَّثِّر کی آیت نمبر  38 میں اللہ پاک  فرماتا ہے:

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ(۳۸)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں گروی رکھی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں زِندگی بخشی، جسم دیا، ہاتھ پاؤں دئیے، آنکھ،کان، ناک،عقل و سمجھ عطا فرمائی،پھر ہم پر اَحْکام لازِم فرمائے، کچھ چیزیں ہم پر فرض ہیں، کچھ ہم پر اللہ پاک کے واجبات ہیں، اب ان فرائض و واجبات کے بدلے ہماری جان گروی رکھی گئی ہے، اگر ہم یہ فرائض اور واجبات ادا کرتے ہیں تو ہم اپنی جان جہنّم سے آزاد کروا لیں گے، اگر ہم ان میں کوتاہی کرتے ہیں تو خود کو جہنّم کا حقدار بنائیں گے۔

(کٹائی  کے وقت)بونے والے جو بوئیں وہ کاٹیں                                                        یہ ہوا تو مَرْ مِٹا یاربّ!

آہ جو بو چکا ہوں وقت دِرَوْ                                                                                ہو گا حسرت کا سامنا یاربّ!