Book Name:Surah e Mulk Fazail o Mazameen
جھکائے ہی رکھا کریں۔
اُچے بَوْل نہ بَوْل ظَہُوْرِی ربّ دَے بَنْدِے کِہْہ گئے نَیں
نِیْوِیْں پَا کے ٹُردیاں رہنا چَنْگَا لگدا اے([1])
وضاحت:اے ظہوریؔ!اللہ پاک کے نیک بندے کہہ گئے ہیں کہ کبھی اُونچے بول مت بولو ! بس عاجزی سے سَر جھکائے زندگی گزار دینا ، بہت اچھا لگتا ہے۔
(2):زندگی آزمائش کے لیے ہے
پیارے اسلامی بھائیو! جب یہ ثابِت ہو گیا کہ سارا اِخْتیار اللہ پاک کا ہے، تو یہاں ایک عام سا سُوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم مجبورِ محض ہیں...؟ سورۂ مُلْک کے دوسرے مرکزی مضمون سے ہمیں اسی سُوال کا جواب ملتا ہے، اس مبارَک سُورت کی دوسری آیت میں ارشاد ہوا:
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ(۲) (پارہ:29، سورۂ مُلْک:2)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی بہت عزت والا،بہت بخشش والا ہے۔
حضرت اِبْنِ عمر رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے: سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے سورۂ مُلْک کی تِلاوت فرمائی جب اس آیتِ کریمہ پر پہنچے تو فرمایا: یہ جانچ ہو گی کہ کون اللہ پاک کی حرام کردہ چیزوں سے زیادہ بچتا ہے اور کون اللہ پاک کے اَحْکام پر عمل کرنے میں زیادہ جلدی کرنے والا ہے۔([2])