Book Name:Surah e Mulk Fazail o Mazameen
پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! ہم کتنی عاجِز مخلوق ہیں۔سورۂ مُلْک ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اے انسان...!! ذرا اپنی اَوْقات دیکھ...!! خُود کی بےبسی پر غور کر! اپنی اَنَا، غرور اور تکبّر سے نکل اور اللہ پاک کے حُضُور عاجزی سے سَر جھکا دے...!!
اپنی اسی بےبسی کو سامنے رکھ کر سورۂ مُلْک کی آیت: 16 اور 17 سنیے، اللہ پاک نے فرمایا:
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ(۱۶) اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یُّرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًاؕ-فَسَتَعْلَمُوْنَ كَیْفَ نَذِیْرِ(۱۷) (پارہ:29، سورۂ مُلْک:16-17)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:کیا تم اُس (اللہ ) سے بے خوف ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے اس بات میں کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے تووہ زمین اچانک کانپنے لگے۔ یا تم اُس سے بے خوف ہو گئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے اس بات میں کہ وہ تم پر پتھراؤ بھیجے تو تم جلد جان لو گے کہ میرا ڈراناکیسا تھا۔
اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! سوچئے! ٹھنڈے دِل سے، تنہائی میں بیٹھ کر غور کیجیے! ہم جو عاجِز ہیں، ہم جو نکّمے ہیں، ہم جو بےبَس ہیں، ہم جو اپنی سانسوں پر بھی اپنا اِختیار نہیں رکھتے، اگر واقعی ہمیں زمین میں دھنسا دیا جائے، ہم پر آسمان سے پتھر برسا دئیے جائیں تو ہمارا کیا بنے گا؟ جب ہم ایسے عذابات کو نہ روک سکتے ہیں، نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں، پِھر یہ سرکشی کیسی...؟ پِھر یہ اَنَا، یہ غرور، یہ تکبّر، یہ نافرمانی کیسی...؟ پِھر ہم کیوں اللہ پاک کے حُضُور سر نہیں جھکاتے ؟ کیوں اس کے عاجز بندے نہیں بن جاتے؟