Surah e Mulk Fazail o Mazameen

Book Name:Surah e Mulk Fazail o Mazameen

رہا تھا، جب اُس نے سورۂ مُلْک  کی آخری آیت تِلاوت کی، جس میں اللہ پاک فرماتا ہے:

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠(۳۰) (پارہ:29، سورۂ مُلْک:30)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تم فرماؤ: بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں نگاہوں کے سامنےبہتاہواپانی لادے؟

یہ آیتِ کریمہ سُن کر وہ فلسفی تکبر اور غرور سے بولا: یہ کونسی مشکل بات ہے، اگر اللہ پاک پانی کو زمین میں دھنسا دے تو ہم سائنس کے بَل پر مختلف آلات کے ذریعے پانی کو پھر نکال لیں گے۔ اس کافِر، منکر فلسفی نے یہ بات کہی اور اپنے راستے چلا گیا، رات کو جب یہ سویا تو خواب میں دیکھا کہ ایک بہت طاقتور شخص آیا، اس نے اس فلسفی کے منہ پر زَوْر دار طمانچہ مارا، جس سے اس کی دونوں آنکھیں نکل گئیں اور ساتھ ہی آنکھوں میں جو نور کا ایک ایک قطرہ پانی تھا وہ زمین پر گر کر خُشْک ہو گیا۔

خواب میں آنے والے اس شخص نے خواب ہی میں کہا: اے بدنصیب! اگر تُو واقعی کُدَال، پھاوڑے اور دیگر سائنسی آلات کے ذریعے، اللہ پاک کی مدد کے بغیر زمین سے پانی نکال سکتا ہے تَو اپنی آنکھوں سے نکلنے والے اِن دو قطروں کو زمین سے نِکال کر دکھا؟

صبح کو جب فلسفی صاحب اُٹھے تو آنکھیں پھوٹی ہوئی تھیں، کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، غرور و تکبر کا سارا نشہ بھی اُتر چکا تھا اور اللہ، اللہ پکار رہے تھے۔ ([1])

کسی کو تاجِ وقار بخشے، کسی کو ذِلَّت کے غار بخشے

جو سب کے ماتھے پہ مہرِ قُدْرت لگا رہا ہے، وہی خُدا ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد


 

 



[1]...مثنوی معنوی، دفتر دوم، انکار فلسفی بر ...الخ، صفحہ:196-197 مفصلًا۔