Book Name:Surah e Mulk Fazail o Mazameen
فَانْفُذُوْاؕ- (پارہ:27، سورۂ رحمٰن:33)
کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ۔
غور کیجیے! کیا ہم اِس دائرے سے نکل سکتے ہیں؟ نہیں نکل سکتے* اِسی طرح ہم وقت کے اندر قید ہیں، مستقبل میں ہم جھانک نہیں سکتے، ماضِی کی طرف واپس پلٹ نہیں سکتے، یہ بَس موجودہ ایک لمحہ ہے، جو ہمارے پاس ہے، بَس اِنہیں چند سیکنڈز پر ہم اختیار رکھتے ہیں۔ ہم ٹائِم لَیْس (یعنی وقت کی قید سے آزاد) بھی نہیں ہو سکتے۔ ایسا بھی نہیں کر سکتے کہ ہم پر وقت گزر ہی نہ سکے۔ کتنے بےبَس ہیں نا ہم...! اپنی زندگی میں، اپنی ہی سانسوں پر اپنا اِختیار نہیں رکھتے۔
سورۂ مُلْک میں ہمیں بار بار اسی بات پر جھنجھوڑا گیا ہے، ہماری یہی بےبسی ہمیں بار بار یاد دِلائی گئی ہے۔ سورۂ مُلْک کی بالکل آخری آیت دیکھیے!
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠(۳۰) (پارہ:29، سورۂ مُلْک:30)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تم فرماؤ: بھلا دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے تو وہ کون ہے جو تمہیں نگاہوں کے سامنےبہتاہواپانی لادے؟
غور کیجیے! پیارے اسلامی بھائیو! پُوری تسلّی کے ساتھ غور کیجیے! ہم کتنے مجبور اور بےبَس ہیں، ہماری زمین کا پانی اگر خشک ہو جائے، کیا ہم اس لائق ہیں کہ ہم کہیں سے پانی مہیا کر پائیں...؟ نہیں ہیں۔
مولانا رُوْم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ مَثْنَوِی شریف میں لکھتے ہیں: ایک بار ایک فلسفی کہیں سے گزر رہا تھا کہ اُس کے کانوں میں تِلاوتِ قرآن کی آواز آئی، کوئی شخص سورۂ مُلْک کی تِلاوت کر