Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ
صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے بستر مبارک پر سو کر سب سے پہلی قربان دینے والے حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ ہیں، جو راہِ دِین کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے حاضر ہو گئے۔([1])
روایت ہے: جب حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ بسترِ مصطفےٰ پر لیٹ کر سَو گئے تو حضرت جبرائیل اور میکائیل علیہما السَّلام آئے، حضرت جبرائیل آپ کے سرہانے کھڑے ہوئے، حضرت میکائیل پائنتی کھڑے ہو گئے، حضرت جبرائیل علیہ السَّلام نے کہا: واہ...!! واہ! اے علی...!! اللہ پاک فرشتوں کے درمیان آپ پر فخر فرماتا ہے کہ آپ نے اپنی جان محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے لیے نذرانہ پیش کر دی۔ ([2])
اعلیٰ حضرت، امام اَحمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اَےْ شَبِ ہِجْرَت بَجَائے مُصطَفٰے بَر رَخْتِ خَوَاب
اَےْ دَمِ شِدَّت فِدائے مصطَفٰے اِمْدَاد کُن([3])
وضاحت: اے ہجرت کی رات، سرورِ کائنات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک بچھونے پر لیٹنے والے! اے ایسے سخت اِمتحان کے لمحات میں شَہَنْشاہِ موجودات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پرجان کا نذرانہ حاضِر کرنے والے! میری اِمداد فرمایئے۔
رِضائے مولیٰ کے طلبگار بن جائیے!
پیارے اسلامی بھائیو! کاش! مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا صدقہ ہم بھی اللہ پاک کی رضا کے