Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ
تھی، وہ یہ کہ اَہْلِ مکّہ اگرچہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان نہیں لاتے تھے بلکہ شہید کر ڈالنے پر تُلےہوئے تھے، اس کے باوُجُود امانتیں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ہی رکھوایا کرتے تھے، چنانچہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو فِکْر تھی کہ میں تو ہجرت کر کے مدینۂ پاک جا رہا ہوں، اب یہ امانتیں اُن کے مالِکوں تک کیسے پہنچائی جائیں گی؟ اس کے لیے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، ساری امانتیں آپ کے حوالے کیں اور فرمایا: اے علی! میرے بستر پر لیٹ جاؤ...!! اللہ پاک نے چاہا تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، صبح سب کی امانتیں ان کے حوالے کر کے پھر مدینے آ جانا۔
اب ماحول دیکھیے کیسا ہے...!! غیر مسلم ننگی تلواریں لے کر باہَر کھڑے ہیں، جان کا پُورا خطرہ موجود تھا، اس کے باوُجُود مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا عشقِ رسول اور جذبۂ جاں نثاری تھا کہ آپ نے پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے بستر مبارَک پر لیٹنا منظور کر لیا۔ گویا آپ مَحْبوب ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کی خاطِر اپنی جان خطرے میں ڈال رہے تھے، اللہ پاک کو مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا یہ جذبہ بہت پسند آیا، چنانچہ آپ کی شان میں یہ آیت نازِل کی، فرمایا: ([1])
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:207)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے۔
سیرت کی مشہور کتاب اَلْمَوَاہِبُ اللَّدُنْیَّۃ میں ہے: ہجرت کی رات ربّ کے مَحْبوب