Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ

Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ

آیات نازِل ہوئی ہیں، اُن میں سے ایک آیتِ کریمہ جو میں نے بیان کی ابتدا میں تِلاوت کی، اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ- (پارہ:2، سورۂ بقرہ:207)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے۔

جان بیچنے کا معنیٰ ہے: اللہ و رسول کی اطاعت میں جان کی بازی لگا دینا۔ صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عبّاس  رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ آیتِ کریمہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا  رَضِیَ اللہ عنہ  کی شان میں نازِل ہوئی۔([1])

شبِ ہجرت عظیم قربانی

کس وقت نازِل ہوئی تھی، سنیے! یہ ہجرت کی رات تھی، وہ وقت جب مکّے کے غیر مسلموں نے آپس میں مشورہ کیا، مکّے کے تمام قبیلوں میں سے ایک ایک شخص لیا گیا، ان سب کو تلواریں دے کر پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کے گھر مبارَک کے باہَر کھڑا کر دیا گیا، ان کا منصوبہ یہ تھا کہ جیسے ہی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  بستر پر لیٹیں گے تو ہم سب مِل کر مَعاذَ اللہ !آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  پر حملہ کر دیں گے۔

اِدھر غیر مسلم یہ منصوبہ بنا رہے تھے، اُدھر اللہ پاک نے اسی رات اپنے مَحْبُوب  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کو ہجرت کا حکم دے دیا۔ اب ہجرت تو کرنی تھی، مکّہ پاک چھوڑ کر مدینۂ پاک کی طرف سَفَر کرنا تھا۔ اس وقت پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کو جو فِکْر


 

 



[1]...تفسیر ثعلبی، پارہ:2، سورۂ بقرہ، زیرِ آیت:207، جلد:2، صفحہ:126۔