Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ

Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ

ہوا، اس بار آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: طُوبیٰ جنّت میں ایک درخت ہے، اس کی جڑیں علی المرتضیٰ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے (جنّتی) محل میں اور شاخیں ساری جنّت میں پھیلی ہوئی ہیں۔

صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ عنہم نے عرض کیا: مُعَاملہ سمجھ نہیں آیا، پہلے ارشاد ہوا تھا کہ طُوبیٰ درخت کی جڑیں آپ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کے جنّتی محل میں ہیں، اب ارشاد ہوا کہ اس کی جڑیں علی المرتضیٰ  رَضِیَ اللہ عنہ  کے جنّتی محل میں ہیں، اس کا مطلب کیا ہے؟ پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: اِنَّ دَارِیْ وَ دَارَ عَلِیٍّ غَدًا فِی الْجَنَّۃِ وَاحِدَةٌ یعنی بیشک جنّت میں میرا اور علی کا محل ایک ہی جگہ ہو گا۔([1])

بیاں کس منہ سے ہو اس مَجْمَعُ الْبَحرَین کا رتبہ          جو مرکزہے شریعت کا، طریقت کا ہے سر چشمہ

تعالَی اللہ تری شوکت تری صَولَت کا کیا کہنا کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرّہ

مسلمانو! رسولُ اللہ کی الفت اگر چاہو      کرو اس کی غلامی جس کا ہر مومن ہوا بندہ([2])

وضاحت:مولا علی شیرِ خدا  رَضِیَ اللہ عنہ وہ ہستی ہیں کہ آپ میں شریعت اور طریقت کے دو سمندر جمع ہو گئے۔ آپ شریعت کا مرکز اور طریقت کا سرچشمہ ہیں۔ اللہ اللہ! آج تک خیبر کا ذرّہ ذرّہ زبانِ حال سے آپ کی شان و شوکت اور رُعب و دبدبہ کی داستان سُنا رہا ہے، اے مسلمانو! اگر رسولُ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کی اُلفت و محبت چاہتے ہو تو اُن کی غُلامی اختیار کر لو کہ جنہیں ہر مومن کا مولیٰ (یعنی آقا) بنایا گیا ہے۔

آیتِ کریمہ کی مختصر وضاحت

پیارے اسلامی بھائیو! حضرت مولیٰ علی شیرِ خُدا  رَضِیَ اللہ عنہ  کی شان میں بہت ساری


 

 



[1]...تفسیر قرطبی،پارہ:13، سورۂ رعد، زیر آیت:29، جلد:5، جز:9، صفحہ:191۔

[2]...دیوانِ سالک، صفحہ:80ـ82ملتقطاً۔