Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ
لیجیے! خود بھی فائدہ اُٹھائیے اور دوسروں کو بھی ترغیب(Motivation) دلائیے!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے ایک شرعِی مسئلہ عرض کرتا ہوں:
(درست شرعی مسئلہ اور عوام میں پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی)
مسئلہ: قَے (اُلٹی)آنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
وضاحت:
عوام میں
مشہور ہے کہ
اُلٹی آنے سے
روزہ ٹوٹ جاتا
ہے۔ یہ ایک
عوامی غلط
فہمی ہے، یاد رکھیے!
روزہ میں خود
بخود کتنی ہی
قَے ( اُلٹی ) ہو جائے،
اِس سے روزہ
نہیں
ٹوٹتا۔اُلٹی
کے سبب روزہ
ٹوٹنے کی
2صورتیں: (1):قَے
(یعنی الٹی)
مُنہ بھر آئی،
اگر اس میں سے
ایک چنے کے
برابر بھی واپس
نگل لیا تَو
روزہ ٹوٹ جائے
گااور ایک چنے
سے کم ہو تَو روزہ
نہیں ٹوٹے گا۔([1])
(2):یونہی
اگر اُلٹی
اپنے آپ نہیں
آئی ہے بلکہ
خُود سے جان بُوجھ
کر کی، اب وہ
مُنہ بھر کر
آئے تو روزہ
ٹوٹ جائے گا
جبکہ روزہ دار
ہونا یاد بھی
ہو *اسی
طرح بعض
اَوْقات کھٹی
ڈکاریں آتی
ہیں، ان سے
بھی روزہ نہیں
ٹوٹتا *کبھی
کبھی کھٹا
پانی حلق تک آ
کر واپس لوٹ
جاتا ہے، اس
سے بھی روزہ
نہیں ٹوٹتا۔ روزے
اور اعتکاف
وغیرہ کے
فضائِل، آداب
اور اَحْکام و
مسائِل کی
تفصیلی معلومات
کے لیے امیر
اہلسنت دَامَت
بَرَکاتُہمُ
العالیہ کی
کتاب فیضانِ
رمضان پڑھ لیجیے!اللہ
پاک ہمیں
دُرست اسلامی
اَحْکام
سیکھنے اور ان
پر عمل کرنے
کی توفیق نصیب
فرمائے۔ اٰمِیْن