Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ
سُواری پر تشریف فرما ہوئے، مجھے اپنے پیچھے بیٹھنے کا شرف عطا فرمایا اور (جیسے آج ہم حِرَّہ کی جانِب جا رہے ہیں، ایسے ہی ) حِرَّہ کی طرف روانہ ہوئے، چلتے چلتے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے آسمان کی طرف سَر اُٹھایا، پِھر وہی پڑھا (جو میں نے پڑھا ہے کہ):
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ْذُنُوبِي ْاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اَحَدٌ غَيْرُكَ
ترجمہ:اے اللہ پاک!میرے گُنَاہ بخش دے،بیشک تیرے سوا کوئی گُنَاہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔
پِھر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے رُخِ اَنْور میری طرف پھیرا اور مُسکرائے، اس پر میں نے بھی وہی سُوال پوچھا جو تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ یا رَسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم !اس عمل مُبارَک کی حِکمت کیا ہے؟ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اے علی! جب بندہ اللہ پاک سے گُنَاہوں کی مُعَافِی مانگتا ہے تو اللہ پاک اس بندے سے خوش ہو کر مُسکراتا ہے، بس اللہ پاک کے اِسی مُسکرانے کی وجہ سے میں بھی مُسکرایاہوں۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا بات ہے...!! اَوَّلًا تواس رِوایت میں مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا اَنداز دیکھیے! آپ کی اَدَائے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ساتھ محبّت دیکھیے! آپ نے مکمل طَور پر وہی نقشہ بنایا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سُواری پر سُوار ہوئے تھے، مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ بھی سُواری پر بیٹھے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مولیٰ علی کواپنے پیچھے بٹھایا تھا، مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ نے حضرت علی بن رَبِیْعہ رحمۃُ اللہ علیہ کو اپنے پیچھے بٹھایا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم حِرَّہ کی طرف روانہ ہوئے تھے،مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ بھی حِرَّہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے آسمان کی طرف سَر اُٹھایا تھا، مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ بھی