Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ
راضی نہ ہوں گے تو نے ہمیں وہ نعمتیں دِیں جو کسی کو نہ دِیں۔ اللہ پاک فرمائے گا:میں تم کو ان سب سے اعلیٰ نعمت دوں گا،جنّتی عَرْض کریں گے:مولیٰ! ان سے افضل کیا چیز ہوسکتی ہے؟ اللہ پاک فرمائے گا :مَیں تم سے راضی رہوں گا ،کبھی ناراض نہ ہوں گا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم اللہ پاک کو راضِی کیسے کر سکتے ہیں، آئیے! ایک خوبصُورت روایت سنتے ہیں:
گُنَاہوں کی مُعَافی مانگا کیجیے...!!
حضرت علی بن رَبِیْعہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ سُوار ی پر سُوار ہوئے، مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور حِرَّہ (نامی علاقے) کی طرف چل پڑے، چلتے چلتے آپ نے آسمان کی طرف سَر اُٹھایا، پِھرپڑھا:
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ْذُنُوبِي ْاِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اَحَدٌ غَيْرُكَ
ترجمہ:اے اللہ پاک!میرے گُنَاہ بخش دے،بیشک تیرے سوا کوئی گُنَاہوں کو بخشنے والا نہیں ہے۔
حضرت علی بن رَبِیْعہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ پڑھنے کے بعد مولیٰ علی شیر خُدا رَضِیَ اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے۔ مجھے بڑی حِیرانی ہوئی، میں نے پوچھا: اے اَمِیرُ الْمُؤمِنِین! آپ نے پہلے اِستغفار کیا (یعنی اللہ پاک سے گُنَاہوں کی مُعَافِی مانگی) پِھر میری طرف دیکھ کر مُسکرائے، اس میں کیاراز ہے؟
میرا یہ سُوال سُن کر حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ نے مجھے ایک واقعہ سُنایا (اپنے ماضِی کی ایک یادتازہ فرمائی) فرمانے لگے: ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم