Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ

Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ

ساتھ لڑائی میں تھے، ایک غیر مسلم کو آپ نے پچھاڑا اور اس کے اُوپر بیٹھ گئے، بس آپ اس کی گردَن اُتارنے ہی لگے تھے کہ اس غیر مسلم نے آپ پر تھوک ڈال دیا۔ جیسے ہی یہ معاملہ ہوا، آپ نے اس غیر مسلم کو چھوڑا اور ایک طرف ہو گئے۔

وہ بڑا حیران ہوا، پوچھا: اے علی! یہ کیا معاملہ ہے، ابھی تو جان سے مارنے کو تیار تھے۔ فرمایا: پہلے میں تجھ سے اللہ پاک کی رضا کے لیے لڑ رہا تھا، اب تُو نے مجھ پر تُھوک ڈالا تو اس لڑائی میں میرے نفس کا حصّہ بھی شامِل ہو گیا، اِس لیے میں پیچھے ہٹ گیا ہوں۔ اس غیر مسلم نے یہ بات سُنی تو فورًا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔([1])

اللہ پاک کی رِضا سب سے بڑی نعمت ہے

پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ پاک کی رِضا پانا ہے، جس خوش نصیب کو یہ نعمت نصیب ہو گئی، وہ دُنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جائے گا۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ- (پارہ:10،سورۂ توبہ:72)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے۔

یعنی جنّت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ اللہ پاک جنتیوں سے راضی ہو گا، کبھی ناراض نہ ہو گا۔([2])

پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: اللہ پاک اہلِ جنّت سے فرمائے گا: اے جنّتیو! کیا تم راضی ہوگئے؟ اہلِ جنّت عرض کریں گے :مولیٰ! ہم کیوں


 

 



[1]...مرقاۃ المفاتیح، کتاب القصاص، الفصل الاول، جلد:7، صفحہ:10، تحت الحدیث:3451۔

[2]...تفسیر خازن، پارہ:10، سورۂ توبہ، زیرِ آیت:72، جلد:2، صفحہ:261۔