Book Name:Zikr e Maula Ali رضی اللہ عنہ
اللہ پاک کی رضا کی طلب میں گزارنا ہے۔ ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:
مَنْ اَحَبَّ لِلَّهِ، وَاَبْغَضَ لِلَّهِ وَاَعْطىٰ لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْاِيمَانَ
یعنی جو اللہ پاک کی رضا کی خاطِر محبّت کرے، اللہ پاک کی رضا ہی کی خاطِر نفرت رکھے، اللہ پاک کی رضا ہی کی خاطِر دے، رِضائے مولیٰ ہی کی خاطِر رَوک رکھے،تواس کا ایمان کامِل ہو گیا۔ ([1])
مطلب یہ کہ بندے نے دُنیا میں جو کچھ بھی کرنا ہے، اللہ پاک کی رِضا کی خاطِر کرے *کسی سے دوستی کرنی ہے تو اپنے لیے نہیں بلکہ اللہ پاک کی رضا کی خاطِر کرے *اپنی اَوْلاد سے، ماں باپ سے محبّت کرنی ہے، صِرْف طبعی میلان کے سبب نہ کرے بلکہ اللہ پاک کی رضا کی نیّت سے کرے *نفرت رکھنی ہے تو اپنی نفسانی خواہشات کی بنیاد پر کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے، اپنی عزّتِ نفس اور اَنَا کی بنیاد پر کسی سے جھگڑے نہ کرے، اگر نفرت رکھنی بھی ہے تو صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا کی خاطِر اللہ پاک کے دشمنوں سے نفرت رکھے *کسی کو کچھ دینا ہے تو رِضائے اِلٰہی کی نیت سے دے *کسی سے کچھ روکنا ہے تو اللہ پاک کی رضا کی نیّت سے روکے، غرض؛ جو بندہ اپنی زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام اللہ پاک کی رضا کی خاطِر کیا کرے، ہر کام میں اچھی نیّت رکھے، اس کا ایمان کامِل ہو جائے گا۔
لڑائی بھی رِضَائے اِلٰہی کے لیے
حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ کا واقعہ بڑا مشہور ہے، ایک مرتبہ آپ غیر مسلموں کے