Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
سُنَّةٍ وَجَمَاعَةٍ یعنی جب تو کسی ایسے شخص کو دیکھے کہ جو امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ سے مَحبّت رکھتا ہو تو جان لے وہ اہل سنّت و جماعت سے ہے۔ ([1])
اللہ! اللہ! کیا شان ہے علمائے کرام کی کہ جو ان سے مَحبّت کرتا ہے دُنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جاتا ہے۔ایک نیک بندے کو اس کے انتقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا اور پوچھا :مَا فَعَلَ اللہ بِکَ اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟انہوں کہا کہ اللہ پاک نے مجھے بخش دیا۔ پوچھا کس وجہ سے ؟جواب دیا :حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ کی مَحبّت کی وجہ سے۔([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہلسنّت کی اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ سے مَحبّت
پیارے اسلامی بھائیو! امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ یوں تو ہر عاشقِ رسول عالِم سے مَحبّت فرماتے ہیں مگر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کے ساتھ آپ کی مَحبّت دیدنی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:اَلحمدُ لِلّٰہ! بچپن ہی سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ سے پہچان ہو چکی تھی۔پھر جُوں جُوں شُعور آتا گیا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی مَحبّت دل میں گھر کرتی چلی گئی۔میں بِلاَ خوفِ تردید ، کہتا ہوں کہ اللہ پاک کی پہچان، میٹھے میٹھے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے ہوئی ۔ تو مجھے میٹھے میٹھے مصطفے صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمکی پہچان امام اَحمد رضا رحمۃُ اللہ علیہ کے سبب نصیب ہوئی۔([3])