Share this link via
Personality Websites!
معلوم ہوا کہ جو اہلِ علم سے بغض کی وجہ سے مَحبّت نہیں رکھتا وہ بدعتی ہے اور بدعتی شخص کو اللہ پاک ذلیل و خوار کر دے گا۔اللہ پاک قرآن ِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ(۱۵۲) (پارہ:9، سورۂ اعراف:152)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کو (معبود) بنالیا عنقریب انہیں دنیا کی زندگی میں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچے گی اور ہم بہتان باندھنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃُ اللہ علیہفرماتے ہیں :یہ سزا قیامت تک آنے والے ہر بدعتی کے بارے میں ہے۔حضرت مالک بن انس رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر بدعتی اپنے سر کے اوپر سے ذلت پائے گاپھر یہی آیت تلاوت فرمائی۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
علما کی مَحبّت ..!! خیر کی علامت..!!
پیارے اسلامی بھائیو! امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی علمائے کرام سے مَحبّت کے کیا کہنے آپ فرماتے ہیں:*عالمِ دین کے لئے میرے دل میں مَحبّت اور مان ہے*اللہ پاک توفیق دے تو ہم عالم بن جائیں ورنہ ان سے مَحبّت کریں۔ ([2])
یاد رکھئے! سنّی علما سے مَحبّت خیر اور بھلائی کی علامت ہے۔حضرت امام قُتَیْبَہ بن سَعید رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اِذَا رَاَيْتَ الرَّجُلَ يُحِبُّ اَحْمَدَبْن حَنْبَلٍ فَاعْلَمْ اَنَّهٗ صَاحِبُ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami