Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
قدموں میں پڑے رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! نجات کی صورت نکل ہی آئے گی۔ ([1]) مزید فرماتے ہیں:علما کو ہماری نہیں،ہمیں علما کی ضرورت ہے بلکہ اپنے مُتَعَلِّقین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : عُلَما کے قدموں سے ہٹے تو بھٹک جاؤ گے۔([2])
اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ علمائے کرام سے اِس قدر مَحبّت فرماتے ہیں، اِن کی عزّت و تعظیم کرنے کا اس قدر حکم ارشاد فرماتے ہیں..؟؟ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں:*یہ علما ہی ہیں جو انبیائے کرام علیہم السَّلام کےحقیقی وارث اور جانشین ہیں؛پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اِ نَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْاَ نْبِيَاءِیعنی بے شک علما ہی انبیا کے وارث ہیں([3])*یہ علما ہی ہیں، جو لوگوں کو دِینِ اسلام کی طرف راغب کرتے ہیں * یہ علما ہی ہیں ، جو مسلمانوں کے عقائد کی حفاظت کرنےوالے ہیں * یہ علما ہی ہیں، جو صحیح معنوں میں اللہ پاک اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمکی پہچان کروانے والے ہیں * یہ علما ہی ہیں، جو صحابۂ کرام کا ادب سکھانے والے ہیں * یہ علما ہی ہیں، جو اہلِ بیت سے مَحبّت کا درس دینے والے ہیں * یہ علما ہی ہیں ، جو مسائل کا شرعی حل نکالنے والے ہیں * یہ علما ہی ہیں، جو طہارت و نجاست کے مسائل بتانے والے ہیں * یہ علما ہی ہیں، جو پاکی پلیدی کا فرق سمجھانے والے ہیں * یہ علما ہی ہیں ، جو غسل ، کفن ، تدفین کے مسائل سکھانے والے ہیں * مدارس و جامعات ، مساجد چلانے والے علما ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نہ صرف خود علمائے کرام کا اَدَب و اِحترام کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتا ہوں۔([4])