Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
علما ئے اہلسنّت کی امیر اہلسنّت سے مَحبّت
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سنا کہ امیر اہلسنّٗت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہعلمائے ا ہلسنّت سے کیسی مَحبّت فرماتے تھے، ایسا نہیں ہے کہ آپ کی یہ مَحبّت یک طرفہ ہے بلکہ جس طرح آپ ان سے مَحبّت فرماتے ہیں ، یہ حضرات بھی آپ سے مَحبّت فرماتے ہیں*حضرت شارح بخاری مفتی شریف ُالحق اَمجدی صاحب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مولانا محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ انتہائی خوش عقیدہ سُنّی، مسلکِ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے سختی سے پابند انسان ہیں *حضرت رئیس التحریر علامہ ارشد القادری رحمۃُ اللہ علیہ جب ایک مرتبہ عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ کراچی تشریف لائے تو خلیفۂ امیر اہلسنّت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مَدَنی دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہسے پوچھا : بیٹا کیا کرتے ہو؟عرض کیا جامعۃ ُالمدینہ میں پڑھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: بیٹا!پڑھ لو!ہر ایک کو آپ کے والد کی طرح علمِ لَدُنِّی نہیں مِلتا*خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضرت مطیع الرحمن رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہنے ایک مرتبہ اپنے عاجزی بھرے جملوں سے امیر اہلسنّت سے اپنی مَحبّت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: میں گنہگار اور مولانا الیاس قادری صاحب سراپا نکِو کار *حضرت شمسُ الہُدیٰ مصباحی دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہفرماتے ہیں:اگر یہ کہا جائے تو مُبَالغہ نہ ہو گا کہ فیضِ رضا کا نام ہے:عطّار ۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد