Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی ایک بڑی ہی پیاری ادا یہ بھی ہے کہ آپ علمائے کرام کی مَحبّت کی وجہ سے جب ان کی بارگاہ میں حاضری دیا کرتے تو ان سے خصوصاً دُعائیں کروایا کرتے ، آپ ایک مقام پر فرماتے ہیں:سینکڑوں نہیں ہزاروں علما کی دُعائیں میرے ساتھ ہیں ۔([1])
حضرت غزالئ زماں علامہ سیِّد احمد سعید کاظمی شاہ صاحب رحمۃُ اللہ علیہ جن دنوں حیات تھے ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ جب بھی ملتان شریف تشریف لاتے آپ کی بارگاہ میں ضرور حاضری دیتے اور ان کی خوب دعائیں لیتے ۔([2])
اے عاشقانِ رسول! امیرِ اہلسنّت مولانا محمد الیاس قادری دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی ان علمائے اہل سنّت کے ساتھ مَحبّت فقط اللہ پاک کی رضا کے لئے تھی ۔
اَبُو داؤد شریف میں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بےشک اللہ پاک کے کچھ بندے ہیں، وہ نبی بھی نہیں ہیں، شہید بھی نہیں ہیں( لیکن اُن کی شان ایسی ہے کہ) روزِ قیامت اُن کے مقام و مرتبے کو انبیائے کرام علیہم السَّلام اور شہید بھی فخرکی نگاہ سے دیکھیں گے۔ عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! وہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کی آپس میں کوئی رشتے داری(Relationship) بھی نہیں ہے، آپس میں کوئی مال کا لَیْن دَین بھی نہیں ہے، یہ صِرْف و صِرْف آپس میں اللہ پاک کی رضا کی خاطِر مَحبّت