Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
دوجہاں کے تاجدار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تشریف لائے اور قربان جائیے! مَحْبُوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک ہی جملہ کہا، فرمایا: اے ناصِرُ الدِّین سَبُکْتِگین کے بیٹے! میرے وارِث (عالِم دین ) کی خِدْمت کی وجہ سے اللہ پاک نے تجھے بخش دیا ہے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے میرے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی...!! اَلحمدُ لِلّٰہ! اللہ پاک کے فضل سے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم زندہ بھی ہیں، اپنی اُمّت کے اَحْوال بلکہ دِلی خیالات سے بھی واقف ہیں، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم یہ بھی جانتے تھے کہ محمود غزنوی نے ایک عالِمِ دین کی خدمت کی ہے، اُس کے لئے عاجزی اختیار کی ، اور یہ بھی جانتے تھے کہ محمود غزنوی کے دِل میں 3 باتوں کو جاننے کی جستجو ہے ،چنانچہ ایک ہی مبارَک جملے میں تینوں باتوں کو حل فرما دیا (1):فرمایا: اے سَبُکْتِگین کے بیٹے! اس سے سلطان کو معلوم ہو گیا کہ میں واقعی سَبُکْتِگین کا بیٹا ہوں (2):پِھر فرمایا: تُو نے میرے وارِث کی خِدْمت کی، اِس سے انہیں معلوم ہو گیا کہ عاشقانِ رسول علما واقعی انبیا کے وارث ہیں (3):پِھر فرمایا: اللہ پاک نے تجھے بخش دیا ہے اس سے انہیں معلوم ہو گیا کہ وہ بخشے گئے ہیں۔
سُبْحٰنَ اللہ!اللہ پاک ہمیں بھی اہلِ علم سے مَحبّت رکھنے اور ان کی عزت افزائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
شامی عالم سے مَحبّت کا انوکھااظہار
پیارے اسلامی بھائیو! ایک مرتبہ ملکِ شام سے تشریف لائے ہوئے جَامِعَہ اَلْمَغْرَبِیَّۃ