Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat

Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

محمود غزنوی پر کرم ہو گیا

پیارے اسلامی بھائیو! علما سے مَحبّت کرنا، اُن کے لئے عاجزی کا اظہار کرنا، اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّمکی نظرِ رحمت حاصِل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے؛کتابوں میں لکھا ہے: سلطان محمود غزنوی  رحمۃُ اللہ علیہ  جو اپنے دَور کے بہت بڑے سلطان اور عاشِقِ رسول ہوئے ہیں۔آپ 3 باتوں  کی حقیقت جاننے کی جستجو میں تھے(1):پہلی بات یہ تھی کہ پیارے آقا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم   کےاس  فرمان : ‌اَلْعُلَمَاءُ ‌وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ (یعنی عُلَما نبیوں کے وارِث ہیں)سے کون لوگ مراد ہیں (2): دوسری بات یہ تھی کہ کیا میرے والِد کا نام سَبُکْتِگین ہی ہے یا میں کسی اور کا بیٹا ہوں (3):تیسری بات یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا میں بخشا جا ؤں گا کہ  نہیں۔

ایک رات سلطان محمود غزنوی  رحمۃُ اللہ علیہ  اپنے لشکر کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، ایک خادِم شمع دان(یعنی روشنی کا سامان) لیے لشکر کے آگے  چل رہا تھا۔ 

روشنی  پھیلی دیکھ کر ایک بندہ کتاب لیے اپنے گھر سے باہر آیا  اور شمع دان کی روشنی میں  کتاب پڑھنا شروع کر دی۔ سلطان  نے دل میں سوچا کہ شاید یہ کوئی  عالِمِ دین ہیں، (سلطان میں یہ خوبی تھی کہ آپ علم اور اہلِ علم سے بڑی مَحبّت فرمایا کرتے تھے اسی وجہ سے آپ ) نے ان کی عزت کرتے ہوئے  لشکر کو روک دیا تاکہ  وہ اطمینان   سے شمع دان کی روشنی میں  مطالعہ کر لیں۔مطالعہ ختم ہونے کے بعد جب وہ صاحب اپنے گھر واپس تشریف لے گئے تو سلطان  اپنے لشکر کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گئے۔

اسی رات قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ رات کو سوئے تو نصیب جاگ گئے، خواب میں