Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat

Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat

خرچ خود برداشت فرماتے، بعض علما میں نقد رقم تقسیم فرمایا کرتےتاکہ کہ وہ خود اپنی حاجتوں کو پورا کر سکیں([1])     *حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃُ اللہ علیہ  بھی اہل علم سے بہت مَحبّت فرمایا کرتے تھے، آپ رحمۃُ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں تجارت صرف اسی لئے کرتا ہوں کہ اس کے ذریعے علما کی خدمت کر سکوں، ایک مرتبہ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃُ اللہ علیہ سے ازراہِ مَحبّت ارشاد فرمایا: لَوْ لَا کَ وَ اَصْحَابُکَ مَا اتَّجَرْتُ یعنی اگر آپ اور آپ کے شاگرد نہ ہوتے میں کبھی بھی تجارت نہ کرتا([2])   *حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہ علیہ نے اہل علم کے لئے بیت المال  سے وظائف مقرر کئے ہوئے تھے۔([3])

اللہ پاک ان حضرات کے صدقے ہمیں بھی علما کی مَحبّت نصیب فرمائے ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

میں خود حاضر ہو جاتا

امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ کی علمائے کرام سے مَحبّت کا ایک اور واقعہ سنیئے!  ایک مرتبہ سندھ کے شہر ٹھٹھہ میں عاشقانِ رسول کا ایک قافلہ تشریف لے گیا،  جس میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک رکن بھی موجود تھے۔ رکن شوریٰ نے وہاں  پرحضرت مولانا ابو سراج طفیل احمد ٹھٹھوی دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ سے  ملاقات کی اور ان کو اجتماع کی دعوت پیش کی انہوں  نے دعوت قبول کرتے ہوئے اجتماع میں  شرکت کی


 

 



[1]... مناقب امام اعظم ، جز:1، صفحہ:262

[2]... صفۃ الصفوہ،جز:4، جلد:2، صفحہ:126

[3]... تاریخ مدینہ دمشق،جلد: 46، صفحہ:320