Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
سے آپ ان کی عزت و تعظیم میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے ۔
چنانچہ ایک مرتبہ آپ کو حضرت فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی رحمۃُ اللہ علیہ کے کراچی تشریف لانے کا پتا چلا ، آپ کو چونکہ علمائے اہل سنّت سے مَحبّت ہے لہٰذا جہاں حضرت جلوہ فرما ہوئے تھے فوراً وہاں پہنچے۔آپ رحمۃُ اللہ علیہ سے ملاقات فرمائی، جب تک آپ حضرت شارح بخاری رحمۃُ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر رہے ، دوزانوں ہاتھ باندھ کر مُؤدِّبانہ انداز اختیار کئے رکھا ۔
پھر حضرت شارح بخاری رحمۃُ اللہ علیہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہکے گھر دن کے وقت تشریف لائے تو وہ منظر بھی قابل دید تھا۔آپ نے اور موجود اسلامی بھائیوں نے ان کی قدم بوسی کی سعادت حاصل کی ۔ شارح بخاری رحمۃُ اللہ علیہ اور ان کے ساتھ آنے والے علمائے اہلسنّت کو اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کیا اور جب رخصت کا وقت آیا تو تعظیم علما میں ننگے پاؤں گھر سے باہرانہیں گاڑی تک چھوڑنے خود پہنچے۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ اولیا!امیر اہلسنّت کی علمائے کرام سے اس قدر مَحبّت ہمارے پہلےکے بزرگوں کی عادت کے عین مطابق ہے ۔ اللہ والوں کا شروع ہی سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اہلِ علم سے بڑی مَحبّت فرمایا کرتے تھے *کروڑوں حنفیوں کے عظیم پیشوا امام اعظم ابو حنفیہ رحمۃُ اللہ علیہ کو علم اور اہلِ علم سے بہت مَحبّت تھی ، آپ رحمۃُ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ اپنی کمائی سے محدثین کرام رحمۃُ اللہ علیہم کی ضروریات پوری فرمایا کرتے، ان کے گھر کا