Book Name:Ameer e Ahle Sunnat Ki Ulama Se Muhabbat
تھے، نیکیوں پر نیکیاں بھی کیا کرتے تھے مگر صحابئ رسول رَضِیَ اللہ عنہ کا مبارک انداز ہے، آپ نے کسی نیکی پر بھروسہ نہیں کیا، بلکہ عاجزی کرتے ہوئے) عَرْض کیا: لَا شَیْءَ یعنی یَارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! میں کوئی تیاری نہیں کر پایا (نمازیں تو ہیں، نیکیاں تو ہیں مگر اُن پر بھروسہ نہیں ہے، اللہ پاک چاہے تو قبول فرمائے، نہ چاہے تو قبول نہ فرمائے) اِلّا اَنِّی اُحِبُّ اللہ وَرَسُوْلَہٗ (البتہ میرے پاس ایک دولت ہے اور قیامت کے لئے میرے پاس یہی ایک سہارا ہے اور وہ یہ کہ )میں اللہ پاک اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبّت کرتا ہوں۔
رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے یہ سُنا تو فرمایا: اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ یعنی تم جس سے مَحبّت کرتے ہو، قیامت کے دِن اسی کے ساتھ رہو گے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! اس حدیثِ پاک سے معلوم ہو گیا کہ دُنیا میں آدمی جس کے ساتھ مَحبّت کرتا ہے، روزِ قیامت اسی کے ساتھ ہو گا۔ اب غور فرمائیے! کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ *جو علما کے سردار امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ سے مَحبّت کرتے ہیں *جو مفتیوں اور متقیوں کے سردار شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ سے مَحبّت کرتے ہیں *جو اہل سنّت کے سر کےتاج امام احمد رضا رحمۃُ اللہ علیہ سے مَحبّت کرتے ہیں * جو تمام علمائے اہل سنّت سے مَحبّت کرتے ہیں *کل روزِ قیامت رَبِّ کائنات انہیں ان علما کے ساتھ ہی رکھے گا *ان کے ساتھ حشر بھی ہو گا اور *اللہ پاک نے چاہا تو ان کے پیچھے پیچھے جنّت میں بھی پہنچ جائیں گے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
شارح بخاری رحمۃُ اللہ علیہ سے آپ کی مَحبّت
پیارے اسلامی بھائیو!امیر اہلسنّت کو علمائے اہل سنّت سے بڑی ہی مَحبّت ہے، اسی وجہ