Shan e Ali Bazuban e Nabi صلی اللہ علیہ وسلم

Book Name:Shan e Ali Bazuban e Nabi صلی اللہ علیہ وسلم

نہیں لے رہا،اسی لئے میں پریشان ہوں۔حضرت علی المرتضی شیرِ خُدا رضی اللہ عَنْہُ کھجوریں بیچنے والے سے اس خاتُون کی سِفارش کی اور فرمایا: کھجوریں واپس کر لو اور اس بیچاری کے دِرْہم لوٹا دو، یہ تو کنیز ہے، اپنی مرضی نہیں کر سکتی۔حضرت مولا علی رضی اللہ عَنْہُ بڑے عاجزی والے تھے،  جیسے آج کل ہوتا ہے کہ بادشاہ کہیں جاتے ہیں تو پورے پروٹوکول کے ساتھ جاتے ہیں، سیکیورٹی گارڈز ساتھ ہوتے ہیں، حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عَنْہُ کے ساتھ ایسی سیکورٹی نہیں تھی، آپ عام لوگوں کی طرح ہی بازار میں تشریف لائے تھے،  چنانچہ کھجوریں بیچنے والے نے آپ کو پہچانا نہیں، حضرت علی رضی اللہ عَنْہُ نے جب خاتُون کی سفارش کی تو دُکان والے نے مَعَاذ اللہ ! حضرت علی المرتضی رضی اللہ عَنْہُ کو دَھکا دے دیا۔ لوگوں نے جب یہ منظر دیکھا تو دُکان والے سے کہا: کیا تم جانتے ہو جنہیں تم نے دَھکا دیا ہے، یہ کون ہیں؟ بولا: نہیں، میں نہیں جانتا۔ لوگوں نے بتایا: یہ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہیں۔ اب تو وہ شخص گھبرا گیا اور اس نے جلدی جلدی اس خاتون سے کھجوریں واپس لیں، اس کے درہم اسے واپَس لوٹائے اور حضرت علی رضی اللہ عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہو کر عاجزی سے عرض کیا: عالِی جاہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سے راضی ہو جائیں۔ مولائے کائنات، حضرت مولا علی رضی اللہ عَنْہُ نے فرمایا: اگر میری رضا چاہتے ہو تو لوگوں کے حقوق پُورےپُورے ادا کیا کرو...!! ([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ!                                                                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو!اس سبق آموز واقعے میں ہمارے لئے سیکھنے کے بہت سے


 

 



[1] ... فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل،فضائل علی ،جز :2 ،صفحہ:621 ،حدیث:1062