Book Name:Shan e Ali Bazuban e Nabi صلی اللہ علیہ وسلم
پیارے اسلامی بھائیو!اِس روایت سے پتا چلتا ہے کہ سچے مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ تمام صحابۂ کِرامعلیہمُ الرِّضْوَان کی عظمت و شان کا دل سے اعتراف کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص بعض صحابۂ کِرام علیہمُ الرِّضْوَان سے مَحَبّت اور بعض سے بُغض رکھتا ہے تووہ سخت غلطی پر ہے۔ اللہ پاک ہمیں تمام صَحابۂ کِرام واہلِ بیتِ عِظام علیہمُ الرِّضْوَان سے سچی مَحَبّت و عقیدت عنایت فرمائے۔اس پر استِقامت بخشے اور اسی اُلفت و اِرادَت کی حالت میں زیرِ گنبدِ خضرا جلوۂ محبوب میں شہادت،جنَّتُ البقیع میں مدفن اور جنّت الفِردوس میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ و سَلَّم اور آپ کے پیاروں کا پڑوس عنایت فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلہٖ و سَلَّم
(۲) محبتِ علی کا دوسرا تقاضا
مشہور مُحَدِّث ، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہِ فرماتے ہیں: حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی سچّی محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ اَعْمَال میں اِن سرکار کی پیروی کرے، ان کی مُخَالفت نہ کرے۔ ([1])
مطلب یہ ہے کہ انسان جس سے محبّت کرتا ہےاس کی ادائیں بھی اپناتا ہےلہٰذا جو حضرت علی رضی اللہ عَنْہُ سے محبت کرتا ہےوہ محض خالی دعویٰ ہی نہ کرےسیرت میں کردار میں گفتار میں حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عَنْہُ کی پیروی بھی اختیار کرے۔ مثلاً *حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عَنْہُ بےمثال عالِمِ دِین تھے کہ انہیں باب العلم کہا جاتا ہے، ہمیں بھی چاہئے کہ ہم عِلْمِ دین سیکھیں، اِنْ شَآءَ اللّٰهُ الْکَرِیْم!شوَّال المکرم میں جامعۃ المدینہ کے داخلے شروع