Book Name:Hum Ahangi
ہی مقصد کے لیے سوچیں۔ رائے دی جائے، مگر نظم وضبط نہ ٹوٹے، جب فیصلہ ہو جائے تو پھر سب ایک صف میں کھڑے ہوجائیں ۔
2۔تنظیمی طریقۂ کار میں کوئی بھی چیز طے ہو جانے کے بعد ، ہر شخص چاہے نگران ہو یا ماتحت، اسے پوری لگن اور یکسوئی سے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ کوئی پس پردہ اختلاف نہ رکھا جائے ۔
3۔نگران اور ماتحت کا یا ایک نگران کا دوسرے نگران سے اختلافِ رائے ہو سکتا ہے مگر دلوں میں یکجہتی اور مقصد ایک ہونا چاہیے، اسی میں دینی کاموں کی بہتری اور کامیابی ہے۔ اختلافِ رائے کے بعد بھی احترام اور محبت برقرار رہے۔
4۔جب اپنے بڑوں پر اعتماد ہو، تو انفرادی رائے کو اجتماعی فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ کر لینا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
ایک تنظیم کے اراکین کے لئے ہم آہنگی کے کیا فوائد ہیں ملاحظہ کیجئے :
(1)ہم آہنگی کسی بھی تنظیم یا ادارے کو مضبوط بناتی اور اس کی تعمیر وترقی میں بہتر کردار ادا کرتی ہے ۔ (2) ہم آہنگی فتنوں ، سازشوں اور بدگمانیوں سے محفوظ رکھتی اور محبت واحترام کی فضا پیدا کرتی ہے ۔ (3) ہم آہنگی اہم فیصلے کرنے میں مدد دیتی اور بے جا اختلاف اور مداخلت سے بچاتی ہے ۔ (4) ہم آہنگی سے وقت کی بچت ہوتی ہے ۔ (5)ہم آہنگی سے تنظیم کے بنیادی مقصد پر فوکس رہتا ہے اور اندرونی مسائل واختلافات کے حل میں زیادہ وقت ضائع نہیں ہوتا ۔
مدنی مذاکروں اورمرکزی مجلسِ شوریٰ کے مدنی مشوروں سے ماخوذ مدنی پھول