Hum Ahangi

Book Name:Hum Ahangi

وَ  اعْتَصِمُوْا  بِحَبْلِ  اللّٰهِ  جَمِیْعًا  وَّ  لَا  تَفَرَّقُوْا۪- (پ4،اٰلِ عمران:103)

ترجَمۂ کنز العرفان: اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تَفْرِقہ مت ڈالو۔

اس آیت  کے تحت تفسیرِ قرطبی میں ہے کہ  اللہ پاک نے آپس میں محبت رکھنے کا حکم دیا ہے اور تَفْرِقَہ (یعنی آپس میں پُھوٹ ڈالنے ،فرقہ فرقہ ہوجانے) سے منع کیا ہے کیونکہ آپس میں اختلاف ہلاکت (تباہی وبربادی )ہے اور آپس میں اجتماعیت و ہم آہنگی نجات ہے۔([1])

اَلحمدُ لِلّٰہ ! دینِ اسلام ہمیں عبادات کے ذریعے بھی گویا ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق کا درس دے رہا ہے ، مثلاًنماز باجماعت، حج کا اجتماع، زکوٰۃ کا نظام اور  ہر رنگ ونسل والے اور امیر وغریب کا ایک ہی صف میں ، ایک امام کے پیچھے کھڑا ہونا اور ایک ہی سمت میں رُخ کرنا  ایک طرح سے ہم آہنگی کی ہی  عملی تربیت ہے۔ گویا شریعت اپنے ماننے والوں کے اندر ایسا مزاج پیدا کرنا چاہتی ہے کہ سب باہم مل کر  ایک  جان  ہو کر رہیں۔

باہم اختلاف   بزدلی  اور  کمزوری  کا سبب

یاد رہے کہ  ہم آہنگی نہ ہونا  اور اختلافات و بے اتفاقیاں کسی بھی قوم کے لئے بزدلی اور کمزوری  کا سبب بنتی ہیں ، چنانچہ اللہ پاک کا ارشاد ہے :

وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ (پ10،الانفال:46)

ترجَمۂ کنز العرفان: آپس میں بے اتفاقی نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی۔

اس آیت  کے تحت تفسیرِ طبری میں ہے کہ  باہم  جھگڑا  مت کرو تم گروہ بندی میں پڑ


 

 



[1]... تفسیر قرطبی، پ4، اٰلِ عمران ، تحت الایۃ: 103، 2/ 104