Hum Ahangi

Book Name:Hum Ahangi

خاطر ایک دوسرے کے ہمنوا بن کر کھڑے ہوجاتے ۔  برسوں کی دشمنیاں بھلا کر بھائی بھائی بن جاتے ، جب اسلام کو ضرورت پڑتی یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی خاطر، دینِ حق کی عزت وشان کی خاطر  اور اِعلائے کلمۃُ الحق کی خاطر کندھے سے کندھا ملا کر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتے ۔

مردانِ ہم آہنگ

5 سنِ ہجری میں جب کفارِ قریش نے اپنے اتحادی قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ پر حملے کا منصوبہ بنایا  تو حضورِ اقدس   صلی اللہ علیہ و اٰلِہٖ وسلم   نے اپنے اصحاب کو جمع فرما کر مشورہ فرمایا۔ اس موقع پر حضرت سلمان فارسی  رضی اللہ عنہ  نے نبیِ پاک  صلی اللہ علیہ و اٰلِہٖ وسلم  کی بارگاہ میں  دفاع کے لئے مدینہ شریف کے گرد ایک خندق کھودنے کی تجویز پیش کی جو اہلِ عرب کے لئے بالکل نئی تھی ۔ لیکن نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ و اٰلِہٖ وسلم   نے جب اس تجویز کو قبول فرمایا تو صحابہ ٔ کرام  نے اس نئے خیال سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے دن رات ایک کر دیے۔ بھوک اور سخت موسم کے باوجود یہ اپنے عظیم مقصد کی خاطر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوگئے ۔ جب فیصلہ ہو گیا تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ میں اس رائے سے متفق نہیں بلکہ پورا لشکر  ایک سوچ، ایک سمت اور ایک نظم  کے ساتھ آگے بڑھا۔ بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی یہ حضرات متفق اور متحد ہوکر خندق کھودتے رہے ۔

ہم آہنگی شریعت کو مطلوب ہے

پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان  متحد رہیں ، آپس میں محبت  والفت قائم کریں   اور  ان کے دل آپس میں  یوں ہم آہنگ رہیں   کہ سب ایک جان ہو کر رہیں ، یہ چیز شریعت کو بھی مطلوب ہے  ۔  چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :