Book Name:Hum Ahangi
جب ہم کھانا کھاتے ہیں، تو ہاتھ، منہ، دانت اور معدہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کرتے اور اپنے مقصد کے لئے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ، اگر دماغ کچھ اور سوچے اور ہاتھ کچھ اور کرے، تو انسان ایک نوالہ بھی نہیں کھا سکتا۔
اجتماعی زندگی میں کئی بڑے کام اور اہم منصوبے پورے کرنے کے لئے بھی ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے ، جب تک لوگ کسی ایک خیال پر متحد ومتفق ہوکر اُس کام کو شروع نہیں کریں گے تب تک وہ کام پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا بلکہ ہم آہنگی نہ ہونے کی صورت میں کسی اہم کام کی پلاننگ اور آغاز ہی دشوار ہوتا ہے ۔
مسلمانوں کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی اللہ پاک کی ایک عظیم نعمت ہے کیونکہ یہ ہم آہنگی محبت اور بھائی چارے کا سبب بنتی ، دلوں کو جوڑتی اور نفرتیں مٹا کر محبتیں پیدا کرتی ہے ۔ اللہ ربُّ العالمین قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-
(پ04،اٰلِ عمران:103)
ترجَمۂ کنز العرفان: اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔
واقعی صحابۂ کرام کی زندگیاں محبت وہم آہنگی کا عملی نمونہ نظر آتی ہیں ، یہ لوگ مختلف رنگوں ، جدا جدا قبیلوں ، منفرد زبانوں اور الگ الگ طبیعتوں کے باوجود اسلام کی