Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
کی، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَاؕ-فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِؕ-وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ(۱۳) (پارہ:3، سورۂ آل عمران:13)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک تمہارے لیے ان دو گروہوں میں بڑی نشانی ہے جنہوں نے آپس میں جنگ کی، (اُن میں ) ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا جو کھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو خود سے دُگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کو چاہتا ہے تائید فرماتا ہے، بیشک اس میں عقلمندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔
اِس آیتِ کریمہ میں غزوۂ بدر کے کچھ اَحْوال بیان ہوئے اور اِس غزوے سے سبق سیکھنے کا ہمیں دَرْس دیا گیا ہے۔ پہلے تو آیتِ کریمہ کے مضاٰمِیْن کو ذرا کھول کر سمجھ لیتے ہیں:
اللہ پاک نے فرمایا: 2گِرَوہ جو بَدْر کے میدان میں آمنے سامنے آئے تھے، اُن میں سے ایک گِرَوہ جو اَہْلِ اِیْمان کا تھا، یہ سب صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان تھے، اِن کا مقصد نہ تو زمین کا کوئی ٹکڑا حاصِل کرنا تھا، نہ یہ مال و دولت جمع کرنے کے لیے لڑنے آئے تھے، دُنیاوِی تاج و تخت کی حِرْص بھی اِن میں نہ تھی، اِن کا مَقْصَد و مَطْلُوب صِرْف ایک تھا:
تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ (پارہ:3، سورۂ آل عمران:13)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا۔
یعنی یہ کلمۂ حق کا پرچَم بلند کرنے کی تڑپ رکھتے تھے۔